مسلم پرسنل لا بورڈ کا تیار کردہ اقرار نامہ

Education
Prepared by the Muslim Personal Law Board Agreement

مسلم پرسنل لا بورڈ کا تیار کردہ

اقرار نامہ

 

نکاح کو سادہ اور آسان بنانے کے سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے ایک مہم طے کی گئی ہے _

جو 27 مارچ سے 6 اپریل2021 تک منائی جائے گی _ اس کے تحت چھوٹے بڑے مختلف پروگرام پورے ملک میں منعقد کیے جائیں گے _ اس ضمن میں بورڈ کے ذمے داروں نے ایک اقرار نامہ تیار کیا ہے _ سب سے پہلے ان ذمے داروں نے اس پر دستخط کیے اور عہد کیا کہ وہ اپنے بچوں اور عزیزوں کے نکاح کے موقع پر اس کی پابندی کریں گے _ اب اس اقرار نامہ کو عام کیا جارہا ہے اور دوسرے لوگوں سے بھی اس پر دستخط کروایا جارہا ہے۔ اگر دستخط کرنے والے اپنے عہد پر قائم رہے تو ان شاء اللہ سماج سے نکاح کی بہت سی مُسرفانہ رسوم ختم ہوجائیں گی _ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے _ وہ اقرار نامہ درج ذیل ہے :

ہم سب اقرار کرتے ہیں کہ:

(1) نکاح کو آسان بنائیں گے ، بے جا رسوم ورواج ، خاص طریقے پر مروّجہ جہیز سے پرہیز کریں گے ۔

(2) بارات کی رسم کو ختم کرتے ہوئے مسجد میں سادگی کے ساتھ نکاح کا طریقہ اختیار کریں گے ۔

(3) نکاح کی دعوت کا اہتمام صرف بیرونِ شہر کے مہمان اور گھر کے افراد کے لیے کریں گے ۔

(4) نکاح میں شرکت کریں گے ، لیکن نکاح کی تقریب والی دعوتِ طعام سے احتراز کریں گے ۔

(5) دعوتِ ولیمہ سادگی کے ساتھ ، دولت کی نمائش کے بغیر ، غرباء اور مساکین کا خیال رکھتے ہوئے کریں گے ۔

(6) جس محفلِ نکاح/دعوتِ ولیمہ میں سنت وشریعت کا خیال رکھاجائے گا اس کی تائید وستائش کریں گے ۔اس کے برخلاف عمل پر بھرپور اور واضح اظہارِ ناپسندیدگی کریں گے ۔

(7) محفلِ نکاح اور دعوتِ ولیمہ میں آتش بازی ، گاناباجا ، ویڈیوگرافی اور کھیل تماشے سے بچتے ہوئے نکاح کے لیے قیمتی رقعہ اور قیمتی اسٹیج کا استعمال نہیں کریں گے ۔

(8) نوجوان اپنے نکاح کو سادگی کے ساتھ کم خرچ میں انجام دیں گے ۔ اس کے برخلاف کسی بیرونی دباؤ کو قطعاً برداشت نہیں کریں گے ۔

(9) نکاح کے طے شدہ وقت کی سختی سے پابندی کریں گے ۔

(10) نکاح کے بعد سنت و شریعت کے مطابق خوش گوار ازدواجی زندگی گزاریں گے اور اپنی بیوی کے ساتھ بہتر سلوک کرکے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی رضامندی حاصل کریں گے ۔

(11) اولاد کی نعمت میسر آنے پر اس کی بہتر تعلیم وتربیت کا اہتمام کریں گے اور اسے پابند ِسنت وشریعت بنانے کی حتی الامکان کوشش کریں گے ۔

تمام برادرانِ اسلام سے درخواست ہے کہ آپ اوپر لکھی گئی باتوں کا اقرار کریں اور ان پر عمل کا مزاج بنائیں کہ یہ شریعت کی پسند اور وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی