کامرس کے طلبہ کے لیے مِلّی ایجنڈا

Education
Milli Agenda for Commerce Students

کامرس کے طلبہ کے لیے مِلّی ایجنڈا

راہ نما: مبارک کاپڑی

 

                کورونا وائرس کے دَور میں معیشت سب سے بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ روزگار، کاروبار سبھی کچھ تہہ و بالا ہونے کی بناء پر سارا سماجی نظام بھی اُتھل پتھل ہوچکا ہے۔ معاشیات کے ہمارے طلبہ کو یہاں اہم کردار ادا کرنا ہے۔

                سائنس، ٹکنالوجی کے بعد آج جس علم کا سب سے زیادہ بول بالا ہے اور جس کی شدید اہمیت و ضرورت بھی ہے وہ ہے ’معاشیات‘۔ ہمارے یہاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس علم سے بیر یا کم از کم غفلت برتی جاتی ہے۔ یہ اُس قوم کا حال ہے جس نے شہرۂ آفاق ماہرِ اقتصادیات، فلسفی اور تاریخ داں ابن خلدون اس دنیا کو دیا، البتّہ گزشتہ لگ بھگ تین صدیوں تک مسلم معاشرے میں معاشیات کے محاذ پر سنّاٹا چھایا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ہم چہار سُو یہ ڈنکا تو بجاتے رہے کہ ہمارے یہاں سُود کو حرام قرار دیا گیا ہے مگر غیر سُودی نظام کو رائج کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے اور اب تو سُودی نظام دنیا بھر کے معاشی و سماجی نظام کو اپنے شکنجے میں لے چکاہے۔ کہنے کو تو دنیا کے نقشے پر ۶۵/مسلم ممالک موجود ہیں البتّہ جدید سائنس و ٹکنالوجی کے لیے مغربی ممالک کے محتاج اور اُن میں سے اکثر کی معیشت کا عالم یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سے حاصل کئے ہوئے قرض کا سُود  ادا کرنے کے لیے اُنہی ملکوں سے پھر قرض کی عرضی کرتے رہتے ہیں۔

                آزادی کے بعد سے معاشیات کے ضمن میں ہماری قوم کا رویّہ بھی افسوس ناک ہی ہے۔ ہمارے کامرس کے طلبہ سے استفسار ہوتا ہے کہ وہ آخر اُس شعبے کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں، تو کہتے ہیں (الف) آگے چل کر دیکھیں گے (ب) بینک میں کام کرنا ہے (ج) کامرس میں زیادہ پڑھائی کا بوجھ نہیں ہوتا (د) کامرس میں پریکٹیکل نہیں ہوتے (و) پارٹ ٹائم میں پڑھ کر فُل ٹائم ملازمت کرسکتے ہیں (ہ) جلد نوکری مل جاتی ہے وغیرہ۔ ایک آدھ فیصد طلبہ بھی یہ خواب نہیں دیکھتے کہ وہ ماہرِ اقتصادیات بن جائیں، معاشیات میں ریسر چ کریں، معاشیات کے تحقیقی جرنل میں اپنے مقالے پیش کریں یا معیشت کے موضوع پر کچھ نیا خیال، نیا نظریہ یا کوئی تحقیق پیش کریں۔ کیا معاشیات کی کوئی اہمیت نہیں۔ کووِڈ۹۱/کے ایک خوردبینی جرثومے نے تو آج ہمیں اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ معاشیات و اقتصادیات میں لاعلمی و لاپرواہی کی بھاری قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

                آج ہمارا روئے سخن معاشیات کے طلبہ سے ہے۔ ہمارے یہ طلبہ اس شعبے میں کسی مقصد کے تئیں داخلہ لیں، وہ کیا کیا ہوسکتے ہیں؟

                (۱) ہمارے نوجوانوں کا پہلا مقصد یہ ہو کہ وہ کامرس کی فیلڈ میں داخلہ لے کر کسی طرح سے بارہویں، پھر گرتے پڑتے گریجویشن پورا کرنے اور کسی دفتر میں بابو گیری کرنے یا کسی بینک کے کاؤنٹر پر کیش کے انبار میں ڈوبے رہنے کی خواہش نہ رکھیں بلکہ وہ ماہراقتصادیات بننے کا خواب رکھیں۔ ایسے ماہر جس کی پکڑ سارے معاشی نظام پر ہو، اُس کے ہر پہلو اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ویژن کا وہ حامل ہو۔ اُسے یہ بھی علم ہو کہ کسی بھی ملک کا دل گاؤں، دیہات اور قصبوں میں دھڑکتا ہے۔ وہاں کے ہر نفس تک زندگی کی بنیادی ضرورتیں مہیّا کرنے کے چھوٹے، اوسط و طویل مدّتی منصوبے اُس کے پاس تیار ہوں۔

                (۲) ہمارے معاشیات کے طلبہ کو ایک اور ہدف دینا چاہیں گے۔ ہمارے پالیٹیکل سائنس کے طلبہ بھی اس معاملے کو خوب خوب سمجھ لیں۔ آزادی کے بعد سے ہمارے یہاں مولانا آزاد کے بعد کوئی قومی لیڈرشِپ نہیں اُبھری۔ سیاسی لیڈران کو ہمارے یہاں قائد سمجھا جانے لگا۔ ہماری قوم سے وابستہ یہ سیاسی افراد یا ہمارے علماء سے بھی چند اشخاص اپنی جیب میں ہمیشہ اپنا ذاتی ایجنڈا ہی لئے پھرتے رہتے ہیں۔ ساری سیاسی پارٹیوں میں اِ ن کا’ریٹ‘ کارڈ گھومنے لگتا ہے۔ ہر الیکشن سے قبل اِن کی شیروانیوں میں سونے کے بٹن چمکنے لگتے ہیں۔ اس طرح یہ اپنی جوشیلی و جذباتی تقریروں اور تحریروں کا سودا کرتے ہیں۔ آج کل البتّہ ہمارے سارے نوجوانان یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے یہ قائدین جو ہماری قوم کے مسائل کو ایوان میں، محلّوں میں، نکّڑوں پر بڑے زور وشور سے اُٹھاتے تھے، اب بالکل بھیگی بلّی بنے ہوئے ہیں۔ ہوا یہ کہ آج مرکز میں ایک ایسی پارٹی برسرِاقتدار آئی ہے جو اُس کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو انفورس منٹ ڈپارٹمنٹ، محکمہئ انکم ٹیکس اورسی بی آئی کے ذریعے خاموش کراتی ہے۔ اسی بناء پر ہم دیکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے نام نہاد قائدین ملّی مسائل پر دھواں دار تحریک شروع کرتے ہیں جیسے ہی برسرِاقتدار پارٹی اُنھیں اُن کے معاشی معاملات، ٹیکس کی عدم ادائیگی وغیرہ کی فائل دکھاتے ہیں وہ فوراً اپنی ہی تحریک یا احتجاج سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔

                ہمارے نوجوانوں سے سب سے پہلی بات یہ کہنا چاہیں گے کہ ہمارے وہ نام نہاد قائدین جن کے معاشی معاملات وغیرہ میں شفافیت نہ ہو، اُنھیں قوم کالیڈر کیوں تسلیم کرنا۔ جن کے سارے معاملات مشکوک ہوں اور اُنھیں ای ڈی اور انکم ٹیکس سے ڈرایا جاسکتا ہو، اُنھیں ہمارے محلّوں و بستیوں میں بطور قائد کیوں پیش کیا جائے۔ ایسے کھوکھلے لیڈر، ملّت کے مسائل پر فوراً حکمران پارٹی کے ساتھ مل لاتے ہیں۔معاشی معاملات، زمین و جائداد، وقف کی اِملاک پر قبضہ وغیرہ سے بچنے کے لیے پھر ہمارے یہ ’قائد‘یہ کہتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ اورنگ زیب کی حکمرانی کے دَور کو دس میں سے سات نمبر بھی نہیں دئے جاسکتے۔ اپنی جان بچانے اور اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے دئے گئے بیان سے پہلے یہ مِلّی لیڈران یہ بھی نہیں سوچتے کہ کیا اُن کے پاس اس کی کوئی دوسری مثال موجود ہے کہ برماسے افغانستان تک کے وسیع و عریض علاقے پر حکمرانی کرنے والا شہنشاہ اپنا گزارہ ٹوپی سل کر اور قرآن مجید کے نسخے ہاتھ سے لکھ کر کیا کرتا تھا؟

                ہمارے نوجوانوں کو اِن نام نہاد قائدین کی قیادت کو رَد کرنا ہے اور طلبہ و نوجوانوں ہی سے قیادت تیار کرنی ہے۔ ہمارے کامرس کے طلبہ کو اس قیادت کو اپنے حساب کتاب اور اپنے معاملات میں شفافیت رکھنے میں رہنمائی کرنی ہے۔

                (۳) ہمارے کامرس و اِکانامکس کے طلبہ کو اپنے محلّے و علاقے کے مساجد و مدارس ٹرسٹ نیز قوم کے تعلیمی اداروں کے اکاؤنٹس لکھنے اور رکھنے میں پہل کرنی چاہئیے۔ اب ہمارے مساجد و مدارس ٹرسٹوں پر سب کی نظر و پکڑ ہوگی۔ اکثر ہمارے یہاں اِن میں شفافیت برتی نہیں جاتی۔ کچھ ٹرسٹیان تو اِن ٹرسٹ اور وقف کی اِملاک ہی سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ حساب کتاب اور آڈٹ نہ کرنے کی بناء پر ہمارے یہ دینی و تعلیمی ادارے چیریٹی کمیشن اور آئی ٹی وغیرہ کی زد پر رہتے ہیں۔مقدمے بازی چلتی رہتی ہے، ہمیں ڈر ہے کہ فرقہ پرست حکومت ایسی صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاکر ہمارے کئی مدارس کے ٹرسٹ کو تحلیل نہ کردے یا ہمارے تعلیمی ٹرسٹوں پر سرکاری منتظم کا تقررنہ کردے۔

                ہمارے نوجوانوں سے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ جب بھی وہ کسی طلبہ کی تنظیم، کسی این جی او، کسی خیراتی ٹرسٹ، کسی ادارہ، جماعت، سوسائٹی، ایسو سی ایشن سے وابستہ ہونے کا ارادہ کرلیں تب وہ یہ دیکھیں کہ (ا) کیا اُس تنظیم/ادارہ کے حساب کتاب میں شفافیت برتی جاتی ہے؟ (۲) بحسن خوبی سالانہ آڈٹ ہوتا ہے؟ (۳) ملک کے سارے قوانین کی پاسداری کرتا ہے؟ (۴) ادارہ کے نصب العین، اغراض و مقاصد اِس ملک کے آئین سے ہم آہنگ ہوں۔تاکہ آگے چل کر آپ ایک اسکالر، دانشور، عالمِ دین وغیرہ ہوتے ہوئے بھی بھیگی بلّی نہ بن جائیں اور اپنے ضمیر اور اپنے ساتھ اپنی قوم کا بھی سودا کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ (کامرس کے طلبہ کے لیے ایک اور اہم ایجنڈے پر ہم آئندہ ہفتے بات کریں گے۔)

 حالانکہ اُس پالیسی کا مقصد صرف یہ تھا کہ کمزور ترین طلبہ کو بھی ریمیڈئیل تدریس سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ پاس ہوجائے۔ اُس وقت بھی ہمارے والدین کی بڑی اکثریت خوش ہوگئی کہ اب بچّے کو KG میں داخلہ دلاؤ اور پھر سیدھے نویں جماعت میں جاکر اسکول سے دریافت کرو کہ اُس کی تعلیمی کارکردگی کیسی ہے؟ اب وہی گروہ یہ مطالبہ کرے گا کہ آف لائن امتحان کا انعقاد نہ ہو، کیوں کہ آن لائن امتحان میں خوب نقل کرکے اسکولوں کا نتیجہ بھی ۰۰۱/فیصد لایا جاسکتا ہے، چاہے بچّوں کو نالج صرف ۰۲/فیصد ہی کیوں نہ حاصل ہوجائے۔