Yeh Waba

Education
یہ وباء

یہ وباء………………………..

1918 میں بھی پھوٹی تھی۔۔۔تقریباً ایک سو سال قبل دنیا پہلی عالمی جنگ کے بعد سنبھل ہی رہی تھی کہ اچانک لوگوں کو ایک اور چیز سے مقابلہ کرنا پڑا جو اس سے بھی زیادہ مہلک تھی۔۔۔۔شدید زکام ، سانس لینے میں دشواری ، کھانسی اور بخار اس کی علامات تھیں۔۔۔اور اس زمانے میں اس وباء کو ………………………..

" اِن فلو اِن زا " (اِنفلواِنزا) کہا جاتا تھا………………………..یہ وباء مغربی محاذوں پر فوج کے تنگ اور پر ہجوم کیمپوں سے پھوٹی تھی۔ فرانس کی سرحد کے ساتھ صفائی کی صورت حال  بہت ناقص تھی خصوصاً خندقوں میں اس کے جراثیموں کی نشوونما ہوئی اور پھر یہ مرض پھیلتا ہی گیا۔۔۔۔۔جنگ تو نومبر 1918 میں ختم ہوگئی لیکن یہ فوجی اپنے ہمراہ جراثیم لے کر گھروں کو لوٹے جہاں جنگ سے بھی زیادہ جانی نقصان ہونے والا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وبا سے پانچ کروڑ سے 10 کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔۔۔۔برِصغیر بھی اس وباء سے متاثر ہُوئے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔یہ اتنی ہی شدید تھی۔۔۔جتنی کہ آج۔۔۔۔۔۔اور دوائیں بھی نایاب تھیں۔۔۔ماہرین کم یاب تھے۔۔۔۔۔بہت سے انسان لقمۂ اجل بن گئے۔۔۔متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے بھی موت کے منہ میں چلے جاتے ۔۔۔ڈاکٹری طریقِ علاج طب یونانی پہ پابندی عائد کرنے کے بعد نیا نیا متعارف کروایا گیا تھا اس لئے ٹسٹس کی بھی زیادہ سہولیات دستیاب نہیں تھیں حکیم محمد اجمل خان (جنہیں تواریخ میں مسیح الملک اور حاذق الملک کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے) نے نہ صرف بلا معاوضہ علاج کی سہولت مہیّا کی بلکہ اپنا کلینک ان وبائی ایام میں عوام کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔۔۔ان کی معالجانہ کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔۔۔۔کیونکہ حکومت کی طرف سے طب یونانی مخالف روئیے کا آغاز ہو چکا تھا۔۔۔لیکن حکومتی وسائل میں شدید کمی کے باعث حکیم صاحب کو زیادہ تنگ نہیں کیا گیا۔۔۔اور چونکہ ان کی جانب سے علاج۔۔۔مفت تھا۔۔۔اور۔۔۔قدرت بھی ساتھ تھی۔۔۔۔لوگ صحت یاب بھی ہو رہے تھے۔۔۔ اس لئے سرکاری سطح پر خاموشی اختیار کی گئی۔۔۔۔آج۔۔۔پِھر وہی علامات ، اور حالات مرض اسی شدت کے ساتھ درپیش ہیں لیکن۔۔۔حکمائے کرام۔۔۔۔اس وباء پر قابو پانے کے لئے۔۔۔۔سرکاری اقدامات اور جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل کر رہے ہیں کیوں کہ۔۔۔سرکاری سطح پر۔۔یونانی طریقِ علاج کو۔۔۔اپنے اقدامات کا حصہ نہیں بنایا گیا۔۔۔۔اور ان حالات میں چونکہ حکماء ملکی سالمیت اور اخوت پہ یقین رکھتے ہیں۔۔اس لئے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے مزاحمتی نظرئیے کو مُلک و قوم کے لئے مفید نہیں سمجھتے۔۔۔اگر حکومت۔۔۔اطِباء کو آواز دے گی تو وہ۔۔۔۔پورے جذبے کے ساتھ حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے۔۔۔حکماء/اطِباء آج بھی عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ۔۔۔حکومت کی طرف سے بار بار بتائی جانے والی احتیاطی تدابیر پہ عمل کریں۔۔۔۔۔۔اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ۔۔۔۔مُلک کو درپیش وباء پہ قابو پایا جا سکے۔۔۔۔حکومت اگر رائج الوقت دیسی طریقِ علاج کے ماہرین سے رجوع کرے اور بڑے طبی دواساز اداروں ( اجمل ، قرشی ، اشرف اور ہمدرد) کے ساتھ رابطہ کرکے حاذق حکماء ( اَیسے حکماء جو جدی حکیم ، خاندانی حکیم ، سنیاسی باوا ، شرطیہ علاج ، اور کسی بھی دعوے سے پاک ہوں) اور دواؤں کے متعلق فوری جامع پالیسی ترتیب دے تو حکماء آج بھی مُلک اور قوم کی خدمت کے لئے دل و جان سے حاضر ہیں۔۔۔وبائی امراض۔۔۔کے متعلق حکمائے متقدمین کی قابل عمل تحقیق آج بھی کارگر ہے اور حکماء کی پیشہ ورانہ پریکٹس میں مستعمل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ برِصغیر کے حکماء کی نمائندہ تنظیم طبی کانفرنس کی بنیاد رکھنے والے عظیم سائنس دان جناب حکیم محمد اجمل خان نے اُس وباء کے شکار مریضوں کو مہیّا کردہ علاج کی مکمل ترتیب  اپنی طبی تحقیق پہ مشتمل کتاب "حاذق"  میں شائع کروا دی تھی اسی کتاب کا حوالہ ایک معروف صحافی ٹی وی پروگرام میں بھی دے چکے ہیں۔(حکیم خلیق الرحمٰن)