حکومت کی پالیسیوں پر اعتراض اور مخالفت کرناغداری نہیں :سی جےآئی

Beed
حکومت کی پالیسیوں پر اعتراض اور مخالفت کرناغداری نہیں :سی جےآئی

نیشنل ڈیسک: جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ٰفاروق عبداللہ کے خلاف آرٹیکل 370 پر تبصرہ کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں عر ضی دائر کرنے والے شخص پرسپریم کورٹ نے 50 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق رجت شرما نامی شخص نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور کہا تھا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹانے پر فاروق عبد اللہ نے قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ عرضداشت میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ فاروق عبداللہ کو چین اور پاکستان سے مددمانگ رہے ہیں۔ اسی لیے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے ۔

جس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ناراضگی کا اظہارکیا۔اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے درخواست خارج کردی اور عدالت کا وقت ضائع کرنے پر رجت شرما پر 50 ہزارروپے جرمانہ عائد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کی کسی بھی پالیسی پر اعتراض اور مخالفت کرنا غداری نہیں ہے۔ درخواست گزار یہ ثابت نہیں کرسکے کہ فاروق عبداللہ کو چین اور پاکستان سے کس طرح مدد مل رہی ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ فاروق عبد اللہ کا رویہ ملک دشمن ہے۔ نہ صرف وزارت داخلہ کو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہئے بلکہ ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی منسوخ کی جانی چاہئے۔ اگر انہیں رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے جاری رکھا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت میں ملک دشمن سرگرمیاں قبول کی جارہی ہیں اور اس سے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچے گا۔درخواست گزار نے کہا کہ 'فاروق عبداللہ نے ایک بیان دیا تھا کہ وہ 370 کو دوبارہ نافذ کریں گے جو ملک مخالف ہے اور یہ غداری کے مترادف ہے کیونکہ اسے پارلیمنٹ نے اکثریت سے منظور کیا ہے'

عدالت عظمیٰ نے آج یہ عرضی خارج کردی اور یہ پی آئی ایل دائر کرنے والے درخواست گزار پر پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے یہ جرمانے درخواست گزار کی استدعا کو ثابت کرنے میں ناکام رہنے پر عائد کیا تھا کہ فاروق عبد اللہ نے آرٹیکل 370 پر بھارت کے خلاف چین اور پاکستان کی مدد طلب کی تھی۔